Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

ایک گدھے کی سر گزشت | کرشن چندر Top Selling تین لفظ "انسان"، زندگی" اور

SKU: 59295887157

4.2
USD290.00 USD335.00

Pay in 4 interest-free payments of $72.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 20 - Aug 25

Description

تین لفظ "انسان"، زندگی" اور "موت" بہت بڑا فلسفہ ہیں۔ ہر فلاسفر ، دانشور، صوفی اور رشی کا ان تین لفظوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور یہی تین لفظ ہی انسان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ صرف مرنے کے لیے تو پیدا نہیں ہوا کوئی راز ہے جو عیاں نہیں ہے۔ یہی جستجو انسان کو اپنے اندر ڈبکی لگانے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ موت نے انسان کو مرنے سے پہلے جاگنے پر مجبور کیا۔ لیکن مجبور صرف وہی ہوتے ہیں جن کو اپنی موت دکھائی پڑتی ہے۔ باقیوں کے لیے موت صرف ایک جھوٹا لفظ ہے۔ ہر انسان کہتا ہے کہ سب نے مرنا ہے۔ لیکن انسان بڑا بھولا ہے کہ وہ سب میں خود کو شامل نہیں کرتا ۔ اسے یہی لگتا رہتا ہے دوسرے مریں گے مجھے اورمیرے اہل و عیال کو چھوڑ کر۔ لیکن اسکا یہ بھرم تب ٹوٹ جاتا ہے جب اسکا کوئی اپنا مر جاتا ہے ۔ پھر وہ روتا اور آنسو بہاتا ہے۔ اگر موت پر اس کو کامل یقین ہوتا تو اس پر رونے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔دراصل اس نے کبھی یہ خیال ہی نہیں کیا تھا کہ میرے قریبی بھی مر جائیں گے۔ جنید بغدادی ؒ کا بیٹا فوت ہو گیا تو انکو دھچکا لگا لیکن دوسرے ہی لمحے انکو سمجھ آ گیا کہ جو مرا ہے وہ تو مر ہی جانے والا تھا۔ اور پھر وہ رب کی رضا کے ساتھ راضی ہو گئے۔ ہم رب کی رضا کے ساتھ تبھی راضی ہو سکتے ہیں جب ہم حقیقت کو حقیقت کی نظر سے دیکھ لیتے ہیں۔ صوفیائے کرام مرنے سے پہلے مر جاتے ہیں ۔ا ور مرنے سے پہلے مر جانا زندگی میں جی اٹھنے کا دوسرا نام ہے۔انسان کے دو جنم ہوتے ہیں ایک جنم ماں کے بطن سے ہوتا ہے اور دوسرا جنم جب وہ جیتے جی اپنی موت کو دیکھ لیتاہے۔مرنے سے پہلے مر جانا انسان کا دوسرا جنم ہے۔ پھر اس کی زندگی پوری طرح بدل جاتی ہے۔کیونکہ موت زندگی کا دروازہ ہے۔ جیسے ہی انسان موت کی وادی میں چھلانگ لگاتا ہے۔ تو وہ زندگی کو پا لیتا ہے۔ موت دشمن نہیں ہے یہ دوست ہے اور موت نے ہی بڑے بڑے صوفی اور اولیا پیدا کیے ہیں ۔ اگر موت نہ ہوتی تو یہ زمین انسان کو تو جنم ہی نہ دے پاتی۔موت اپنے دامن میں زندگی کے بے پایاں سمندر کو چھپائے ہوئے ہے ۔اور ہم موت سے ہی ڈرتے رہتے ہیں اور تبھی تو ہم زندگی سے غافل رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ موت سے ڈرنے والا شخص زندگی سے بھی ڈرتا رہتا ہے۔ زندگی کی تمنا ہے تو موت کے دامن میں غوطہ زن ہونا پڑے گا ورنہ زندگی کا گوہر ِ نایاب ہاتھ نہیں آ سکتا ۔کیا وجہ ہے کہ موت جیسا حقیقی اور بے لباس سچ ہم دیکھ نہیں پاتے ؟ اس کے پیچھے بہت گہرا راز ہے ۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو ہم موت کے بار ے میں سنتے اور جانتے ہیں۔ ہم مرے ہوئے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ اس وقت ہمارا شعور اتنا پختہ نہیں ہوتا۔ شعور یہ نہیں سمجھ پاتا کہ مرنا کیا ہوتا ہے ۔ اور مر جانے کا مطلب کیا ہے۔ پھر جوان ہونے اور شعور کے پختہ ہونے تک بار بار ہمارا اس موت کے عمل سے واسطہ پڑتا ہے ۔ اور یوں ہمارا دماغ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ عمل اتنی بار ہمارے سامنے دہرایا جاتا ہے کہ ہم پر موت کا اثر ہی نہیں ہوتا ۔اور ہمیں یہی لگتا رہتا ہے کہ دوسرے مر رہے ہیں ، دوسرے ہی مریں گے میں تو ہمیشہ زندہ رہوں گا۔انسان کی ہر بیماری کی جڑ اسکا اپنا دماغ ہے ۔ دماغ کبھی ماضی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو کبھی مستقبل کے خوابوں میں الجھا ہوا ہے۔ کبھی انا انسان کے شعور پر غالب ہے تو کبھی بے ہوشی انسان کو اس زندگی سے منقطع کیے ہوئے ہے۔دماغ سے نجات ہر بیماری سے نجات ہے۔دماغ سے نجات کا مطلب ہے بے ہوشی سے نجات ، انا سے نجات ۔ اور یہ نجات آپ بنا کسی رہنما کے حاصل نہیں کر سکتے ۔یہ کتاب رہنما کی طرح آپکا ہاتھ پکڑ کر چلتی ہے۔اور آپکو تمام بیماریوں سے نجات دلاتی ہے۔اس کتاب میں عرفان کے حصول پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ کیونکہ عرفان کے بغیر انسان نہ خود کو جان پاتا ہے اور نہ خالق کو۔ کیونکہ حدیث قدسی کے الفاظ ہیں۔ " انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں" ۔ اگر انسان نے خود کو جان لیا تو خالق کو بھی جان لیا ۔ کیونکہ خالق انسان کی شہہ رگ سے بھی زیاد ہ قریب ہے۔یہ کتاب تصوف کی کتابوں میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل کتا ب ہے۔ یہ کتا ب انسان کی کمزوریوں اور بیماریوں کو انسان کے سامنے لاتی ہے تاکہ انسان اپنی کمزوریوں کو دیکھ سکے۔ اور ان سے چھٹکارا حاصل کرے۔ یاد رکھیں کوئی بھی کتاب آپ کو عرفان نہیں دے سکتی۔ کیونکہ کتابیں منزل کا پتہ بتاتی ہیں۔ کتابیں منزل کا راستہ دکھاتی ہیں۔ چلنا آپکو خود ہی پڑتا ہے۔ اور اگر آپ چلیں گے تو پہنچ جائیں گے۔ اگر صرف کتابیں پڑھ کر پہنچنا ہوتا تو بلھے شاہ کبھی نہ کہتے

وکالت کا اصل مقصد انصاف کا اصول ھے

"میرے مشہور مقدمے"

"وکالت کے ناطے یہ بات عرض کرنی چاھوں گا کہ اگرچہ اس پیشہ سے لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ وکلاء فیس لے کر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کرنے میں ماہر ہوتے ہیں

اکارٹ ٹولے بھی اُسی منزل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ آپکو رستہ دکھا رہا ہے۔ آپکو پکار رہا ہے۔ آپکو صدا دے رہا ہے۔ کبھی وہ اس منزل کی خوبیاں بیان کرتا ہے۔ کبھی وہ تمہارے دکھوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ تمہیں یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ تم جس دنیا میں جی رہے ہو وہ کتنی مصیبتوں اور دکھوں سے بھری ہوئی دنیا ہے۔ تو کبھی وہ اپنی دنیا کے بارے میں اشارے دیتا ہے کہ دیکھو میں جس دنیا میں ہوں یہاں پر کتنا سکون اور کتنا اطمینان ہے ۔کبھی وہ آپ کو قائل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی وہ آپکو پریشان کرتا ہے ۔ وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اس سے پہلے کہ موت تم سے یہ زندگی اور یہ جسم چھین لے تم پہلے ہی اس جسم اور زندگی کو موت کے حوالے کر دو ۔ اور یہ طریقہ صوفیا اور اولیاء کا طریقہ ہے ۔یہ طریقہ دانشوروں کا طریقہ ہے ، یہ طریقہ مفکروں کا طریقہ ہے، یہ اہلِ نظر کا طریقہ ہے۔ جو چیز موت چھین لے گی اسے وہ پہلے ہی موت کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور یوں وہ زندگی کو زندگی کی طرح جیتے ہیں ۔ تم بھی اگر زندگی کو زندگی کی طرح جینا چاہتے ہو تو پھر اکارٹ ٹولے کی بات کو کان لگا کر سنو

ایک گدھے کی سر گزشت | کرشن چندر Top Selling تین لفظ "انسان"، زندگی" اور" " : " " : " "

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products